غزل - ۲۰
|
پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا |
درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا |
|
تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے
|
|
|
پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا |
درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا |
|
تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزے
|
|